بسم اللہ الرحمن الرحیم
تعارف
انسان کا بڑا چھوٹا یا معزز و حقیر ہونا ذات پات اور خاندان و نسب سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اللہ ﷻ کے نزدیک وہی زیادہ عزت والا ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے ۔ قرآنی تصور کے مطابق خاندانی نسب کی حقیقت محض یہ ہے کہ معاشرے کے اندر انسان ایک دوسرے کی پہچان کر سکیں:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ
اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ (13-49)
اے لوگو ! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہارے لئے قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو –
بیشک اللہ کے نزدیک زیادہ باعزت وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو – بیشک اللہ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے –
اللہ ﷻ نے ذاتیں ٗ قبیلے اور خاندان محض باہمی تعارف اور شناخت کے لئے مقرر کئے ہیں لیکن بلاشبہ جس کو اللہﷻکسی شریف اور بزرگ و معزز گھرانے میں پیدا فرمائے تو یہ ایک عظیم شرف کی بات ہوتی ہے – جیسا کہ آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کو اللہﷻ نے عربوں کے معزز ترین “قریشی و ہاشمی” گھرانے میں جلوہ گر فرمایا جس کا آپﷺ کو بجا طور پر فخر تھا مگر آپﷺ نے انسانیت کا معیار تقوی اور پرہیزگاری ہی قرار دیا اور اس ضمن میں خود اپنی ذاتِ مبارکہ اور حیاتِ مبارکہ کو نمونہ بنا کر پیش فرمایا –
قدیم زمانوں سے انسان اپنے خاندان ٗ اپنی نسل اور اپنے اسلاف پر فخر کرتے چلے آئے ہیٖں – ہماری قوم یعنی “جٹ” اور پھر اس کی ذیلی قوم “گوندل” (جو کہ جٹ قوم کے ایک نامور سپوت “گوندل” کے نام سے منسوب ہے) ٗ کے افراد عموماً ذہین و عاقل ، ہوشمند اور نڈر واقع ہوئے ہیں – جہاں ہمارے مردوں کے یہ خصائل ہیں وہاں ہماری عورتیں خوبرو ئی ، شرم و حیاء ، غیرت مندی ، وفاداری اور سلیقہ شعاری کی دولتوں سے مالا مال ہیں – صدیوں پر محیط عرصے میں ہمارے اسلاف نے شہروں کی نسبت دیہاتوں کی زندگی کو ترجیح دی – حصولِ رزق کے لئے بنیادی ذریعہ زراعت کا اپنایا – سادہ اور کٹھن زندگی میں اکلِ حلال کو بنیادی اصول قرار دئیے رکھا – بعدِ وسائل کے باوجود فنون و علوم کے حصول سے کبھی کوتاہ نظری نہ کی – یہی وجہ رہی ہے کہ ہمارے اسلاف کی زندگی میں امامت ، نیابت ، خطابت اور طبابت یکساں طور پر شامل رہا ہے – بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ یہی وہ غیر معمولی صلاحیتیں تھیں جو معاشرے میں ہمارے اسلاف کی عظمت کی پہچان رہی ہیں – اپنے اپنے دیہات میں جہاں طبابت سے لوگوں کو فیض پہنچایا وہاں دینی و دنیوی تعلیمات سے بھی ہر دو مرد و زن کے سینوں کو منور کیا – علم ہمارے اسلاف کو نسل در نسل ورثے میں ملتا چلا آ رہا ہے – آج کے زمانے میں بھی کسی ایسے گاؤں میں چلے جائیں جہاں گوندلوں کا کوئی گھرانہ بس رہا ہو تو یہ اصحاب عالم ، امام ، حکیم ، خطیب اور معلم ہی نظر آئیں گے – ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ شرافت ، سادگی ، راستی ، حق گوئی اور پاکبازی کو اپنایا – یہی وجہ رہی ہے کہ دیہاتوں کی مجلسی زندگی میں ان بزرگوں کا سر ہمیشہ بلند رہا کیونکہ دیہات کے لوگ انہیں منصف ، ثالث ، راہبر و راہنما ، قائد ، استاد ٗ مفتی ، دانشور اور عالم مانتے رہے اور بلا معاوضہ ہمارے گھروں کے خدمتگار رہے